مقبوضہ کشمیر میں مالی بحران اور اس کے سیاسی و معاشی اثرات

مقبوضہ کشمیر میں مالی بحران اور اس کے اثرات مختلف پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ سرکاری واجبات کی عدم ادائیگی اور ٹھیکیداروں کو 6 ماہ سے ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث 80% ٹھیکیدار قرضوں میں ڈوب چکے ہیں، اور 60% ترقیاتی منصوبے تکمیل سے پہلے ہی رک گئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں 70% مزدور اجرتوں کے منتظر ہیں، جو معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ مزید برآں، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں 40% تاخیر ہو چکی ہے، جس سے عوامی وسائل خطرے میں ہیں۔ یہ بھی پڑھیں:جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب،نوٹیفکیشن جاری بارہمولہ کے 50% سپلائرز کے واجبات پھنسے ہوئے ہیں، اور مالی بحران کی وجہ سے 30% نئے منصوبے شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں، جن کی وجہ سے 60% فنڈز ترقیاتی منصوبوں کے لئے بند کر دیے گئے ہیں۔ سرکاری محکموں کی سست روی بھی اس بحران کا ایک حصہ ہے، جہاں 8 ہفتوں میں کسی بھی ٹھیکیدار کو ادائیگی نہیں کی گئی۔ سیاسی طور پر کشمیر کے نوجوانوں کی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2023 میں 45% نوجوانوں نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا، اور 30% طلبہ تنظیموں نے حکومت مخالف تحریکوں کی قیادت کی۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی سیاسی و سماجی مزاحمت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جہاں 70% نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی سیاسی جدوجہد کو فروغ دے رہے ہیں۔ مقامی تحریکوں کی بنیاد 20% نوجوانوں نے رکھی، اور حکومتی پالیسیوں پر 50% نوجوانوں نے تنقید کی۔ اس کے علاوہ، 2023 میں کشمیری نوجوانوں نے 20 سے زائد عالمی سیمینارز میں شرکت کی، جس سے ان کی عالمی سطح پر سیاسی بیداری میں مزید اضافہ ہوا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر سی ٹی وی نیوز کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے