مصری سائنسدانوں نےقدیم ترین وہیل کےفوسل کی دریافت پرگینیز ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کرا لیا
منصورہ یونیورسٹی کے ورٹیبریٹ پیلنٹولوجی سینٹرنے 41 ملین سال پرانے دنیا کے سب سے چھوٹے قدیم وہیل کے فوسل کی دریافت پر گینیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا ۔ یہ فوسل 2023 میں مصر کے وادی الرایان، فایوم میں دریافت کیا گیا تھا اور اکتوبر 2024 میں گینیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا گیا۔
اس دریافت کردہ وہیل کو "توتسیٹس رایانینسس” کا نام دیا گیا ہے، جو مصری فرعون شاہ توتنخامن کے نام سے منسوب ہے ۔ یہ وہیل بازیلوسورڈ نسل سے تعلق رکھتی ہے ، جو قدیم سمندری ممالیہ جانوروں میں شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ اور قطر کا 1 ارب پاؤنڈ کی گرین انرجی سرمایہ کاری کا اعلان
منصورہ یونیورسٹی کے پروفیسر ہشام سلم نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ توتسیٹس وہیل ان اولین سمندری مخلوقات میں شامل ہے جنہوں نے اپنے طرزِ زندگی کو تبدیلی کے عمل سے گزار کر مکمل طور پر پانی میں رہنے کو اپنایا۔
گینیز ورلڈ ریکارڈ کی ویب سائٹ کے مطابق، دریافت کردہ بازیلوسورڈ وہیل کی لمبائی 2.5 میٹر ہے، جو اس نسل کے دیگر وہیلز کے مقابلے میں بے حد چھوٹی ہے۔
گینیز ورلڈ ریکارڈ کی ویب سائٹ کے مطابق، دریافت کردہ بازیلوسورڈ وہیل کی لمبائی 2.5 میٹر ہے، جو اس نسل کے دیگر وہیلز کے مقابلے میں بے حد چھوٹی ہے۔تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر سی ٹی وی نیوز کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں