ایمسٹرڈیم میں 15 سال پرانے قتل کیس کو حل کرنے کیلیے ہولوگرام کا استعمال
ڈچ تفتیش کاروں نے 15 سال پہلے قتل ہونے والی ایک سیکس ورکر کا ہولوگرام تیار کر کے اسے عوام کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ اس کیس میں قاتل کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس ہولوگرام کے ذریعے عوام کی توجہ دوبارہ اس معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ایمسٹرڈیم پولیس کی کولڈ کیس ٹیم کی رکن نے ڈچ ٹی وی کو بتایا کہ ہولوگرام کا مقصد صرف ایک علامت کے طور پر استعمال ہے نہ کہ مقتولہ کی اصل شبیہہ پیش کرنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس طرح لوگوں کو اس کیس کی یاد دہانی ہوگی اور اس کو دوبارہ توجہ ملے گی۔قتل کا شکار ہونے والی سیکس ورکر بیٹی سزابو کو 2009 میں چاقو کے وار سے قتل کیا گیا تھا ۔ پولیس اب تک قاتل کا سراغ لگانے میں ناکام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس سے متعلق مکمل تحقیقات کی گئیں
لیکن تفتیش میں کم لوگ ہی مدد کو تیار تھے ۔ایمسٹرڈیم پولیس کی کولڈ کیس ٹیم کا کہنا ہے کہ یقین ہے کہ کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو اس بارے میں جانتے ہیں کہ یہ کس نے کیا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر سی ٹی وی نیوز کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں