اسپین میں 30 سال کا بدترین سیلاب، 64 افراد ہلاک
اسپین کے علاقے ویلنشیا میں 30 سال کے بدترین سیلاب میں کم از کم 64 افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ منگل کو تیز بارش کے باعث علاقے میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اور متعدد علاقوں تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔مقامی حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں، کشتیوں کی مدد سے رات بھر متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتی رہیں۔
ایک سال کے برابر بارش صرف 8 گھنٹوں میں ہوئی جس سے پورے علاقے میں فصلیں بھی تباہ ہو گئیں ۔کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو درختوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا گیا تا کہ سیلابی ریلے سے بچ سکیں۔ جنوبی علاقے اندلسیا میں سیلاب املاک کے ساتھ جانوروں کو بھی بہا لے گیا ۔متعدد شہری رات بھر ویلنشیا کے پیٹرول پمپ پر پھنسے رہے اور لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کاروں کی چھتوں پر پناہ لی۔ سیلاب کے باعث میڈرڈ اور بارسلونا کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی ۔
اسکول اور ضروری سروسز بھی بدترین سیلاب سے بند ہیں ۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ویلنشیا کے علاقائی سربراہ کارلوس مایزون نے کہا کہ کچھ علاقوں تک رسائی ممکن نہیں اور امدادی کارروائیوں میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔
اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچز نے متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بحالی کا وعدہ کیا ۔یہ سیلاب اسپین کے لیے 1996 کے بعد کا بدترین واقعہ ہے اور یورپ میں 2021 کے بعد کا سب سے بڑا سیلابی سانحہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید بارشوں اور قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بحیرہ روم کے گرم ہونے سے بارشیں زیادہ شدید ہو گئی ہیں ۔
ایک سال کے برابر بارش صرف 8 گھنٹوں میں ہوئی جس سے پورے علاقے میں فصلیں بھی تباہ ہو گئیں ۔کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو درختوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا گیا تا کہ سیلابی ریلے سے بچ سکیں۔ جنوبی علاقے اندلسیا میں سیلاب املاک کے ساتھ جانوروں کو بھی بہا لے گیا ۔متعدد شہری رات بھر ویلنشیا کے پیٹرول پمپ پر پھنسے رہے اور لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لیے کاروں کی چھتوں پر پناہ لی۔ سیلاب کے باعث میڈرڈ اور بارسلونا کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی ۔
اسکول اور ضروری سروسز بھی بدترین سیلاب سے بند ہیں ۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ویلنشیا کے علاقائی سربراہ کارلوس مایزون نے کہا کہ کچھ علاقوں تک رسائی ممکن نہیں اور امدادی کارروائیوں میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔
اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچز نے متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انفراسٹرکچر کی بحالی کا وعدہ کیا ۔یہ سیلاب اسپین کے لیے 1996 کے بعد کا بدترین واقعہ ہے اور یورپ میں 2021 کے بعد کا سب سے بڑا سیلابی سانحہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید بارشوں اور قدرتی آفات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بحیرہ روم کے گرم ہونے سے بارشیں زیادہ شدید ہو گئی ہیں ۔تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر سی ٹی وی نیوز کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں